سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 496
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا : نا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاةِ ، فَتَلَقَّاهُ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ فَيُقَبِّلُهَا ، ثُمَّ يُصَلِّي " . قَالَ عُرْوَةُ : قُلْتُ لَهَا مَنْ تَرِينَهُ غَيْرُكِ ؟ فَضَحِكَتْ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ہوتے اور نماز کے لیے وضو کر لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اہلیہ آپ کے سامنے آتی تو آپ ان کا بوسہ لے لیتے اور پھر نماز ادا کر لیتے (یعنی از سر نو وضو نہیں کرتے تھے)۔ عروہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ان سے کہا: ”وہ آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔