سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالَجَ ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . قَالَ عُرْوَةُ : فَقُلْتُ لَهَا : مَنْ هِيَ إِلا أَنْتِ ؟ فَضَحِكَتْ . وَقَالَ ابْنُ مَالَجَ : " يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " ، قُلْتُ : مَنْ هِيَ إِلا أَنْتِ ؟ فَضَحِكَتْ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے اور پھر نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ عروہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”وہ خاتون آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں:) تو میں نے کہا: ”وہ خاتون آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔