سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ، نا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ غَالِبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا قَبَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . غَالِبٌ هُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مَتْرُوكٌ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ اس روایت کا راوی غالب ابن عبیداللہ ہے، اور وہ متروک ہے۔