سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 491
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، نا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ امْرَأَتَهُ بَعْدَ الْوُضُوءِ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَلا يُعِيدُ الْوُضُوءَ " . فَقُلْتُ لَهَا : لَئِنْ كَانَ ذَلِكَ مَا كَانَ إِلا مِنْكِ ، فَسَكَتَتْ . هَكَذَا قَالَ فِيهِ : إِنَّ رَجُلا قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ .محمد محی الدین
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے یہ بات بیان کی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو وضو کر لینے کے بعد اپنی بیوی کا بوسہ لے لیتا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔“ وہ صاحب کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اگر ایسا ہی ہے، تو وہ اہلیہ آپ ہی ہوں گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش رہی۔