سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 490
وَذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، قَالَ : نا ابْنُ الْمُصَفَّى ، ثنا بَقِيَّةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ " .محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”بوسہ لینے سے وضو کرنا لازم نہیں ہوتا۔“