سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 489
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَرَّاقُ ، نا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، نا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا بَلَغَهَا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ فِي الْقُبْلَةِ الْوُضُوءُ ، فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ لا يَتَوَضَّأُ " . وَلا أَعْلَمُ حَدَّثَ بِهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ هَكَذَا ، غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک قول کا پتہ چلا کہ بوسہ لینے کے بعد وضو لازم ہو جاتا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے اور آپ از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔“