سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 488
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَاءِهِ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . ثُمَّ ضَحِكَتْ . تَفَرَّدَ بِهِ الْحَاجِبُ ، عَنْ وَكِيعٍ وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ ، عَنْ وَكِيعٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " ، وَحَاجِبٌ لَمْ يَكُنْ لَهُ كِتَابٌ إِنَّمَا كَانَ يُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِهِ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کے رسول اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لے لیتے تھے، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ (یہ بات بیان کرنے کے بعد) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے، جبکہ آپ روزے کی حالت میں ہوتے تھے۔