سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 486
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالُوا : نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ فِي الْحَدِيثِ ، وَالْمَحْفُوظُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحُفَّاظُ الثِّقَاتُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، مِنْهُمْ مَعْمَرٌ ، وَعُقَيْلٌ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَقَالَ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي الْقُبْلَةِ الْوُضُوءُ ، وَلَوْ كَانَ مَا رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ صَحِيحًا ، لَمَا كَانَ الزُّهْرِيُّ يُفْتِي بِخِلافِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، جس میں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ امام مالک نے امام زہری کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”بوسہ لینے کے بعد وضو لازم ہو جاتا ہے۔“ تو اگر زہری کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر زہری کو اس کے خلاف فتویٰ نہیں دینا چاہیے تھا، باقی اللہ بہتر جانتا ہے!۔