سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الطَّرَسُوسِيُّ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَسَارٍ مَدِينِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لا تُعَادُ الصَّلاةُ مِنَ الْقُبْلَةِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَيُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ فِي إِسْنَادِهِ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”بوسہ لینے کی وجہ سے نماز کو دہرایا نہیں جائے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور بعد میں نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ اس روایت کی سند میں منصور بن ڈاذان نامی راوی نے اس طرح کی بات نقل کی ہے۔