سنن الدارقطني
كتاب السبق بين الخيل وما روي فيه عن النبى صلى الله عليه وسلم وهو زيادة فى الكتاب— گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
السَّبْقِ بَيْنَ الْخَيْلِ باب: گھوڑوں کے درمیان دوڑکامقابلہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ صُدْرَانَ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْمُرَادِيُّ ، نَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَوْ خِلاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، شَكَّ ابْنُ مَيْمُونٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَلِيٍّ : " يَا عَلِيُّ ، قَدْ جَعَلْتُ إِلَيْكَ هَذِهِ السَّبْقَةَ بَيْنَ النَّاسِ ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَدَعَا سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقَالَ : يَا سُرَاقَةُ ، إِنِّي قَدْ جَعَلْتُ إِلَيْكَ مَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُنُقِي مِنْ هَذِهِ السَّبْقَةِ فِي عُنُقِكِ ، فَإِذَا أَتَيْتَ الْمِيطَانَ " ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَالْمِيطَانُ مَرْسِلُهَا مِنَ الْغَايَةِ ، فَصُفَّ الْخَيْلَ ثُمَّ نَادِ ثَلاثًا ، هَلْ مِنْ مُصْلِحٍ لِلِّجَامِ ، أَوْ حَامِلٍ لِغُلامٍ ، أَوْ طَارِحٍ لِجَلٍّ ، فَإِذَا لَمْ يُجِبْكَ أَحَدٌ فَكَبِّرْ ثَلاثًا ثُمَّ خَلِّهَا عِنْدَ الثَّالِثَةِ يُسْعِدُ اللَّهُ بِسَبْقِهِ مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ ، فَكَانَ عَلِيٌّ يَقْعُدُ عِنْدَ مُنْتَهَى الْغَايَةِ وَيَخُطُّ خَطًّا يُقِيمُ رَجُلَيْنِ مُتَقَابِلَيْنِ عِنْدَ طَرَفِ الْخَطِّ طَرْفُهُ بَيْنَ إِبْهَامَيْ أَرُجُلِهِمَا ، وَتَمُرُّ الْخَيْلُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَيَقُولُ لَهُمَا : إِذَا خَرَجَ أَحَدُ الْفَرَسَيْنِ عَلَى صَاحِبِهِ بِطَرَفِ أُذُنَيْهِ ، أَوْ أُذُنٍ ، أَوْ عِذَارٍ فَاجْعَلُوا السَّبْقَةَ لَهُ ، فَإِنْ شَكَكْتُمَا ، فَاجْعَلا سَبْقَهُمَا نِصْفَيْنِ ، فَإِذَا قَرَنْتُمْ ثِنْتَيْنِ فَاجْعَلُوا الْغَايَةَ مِنْ غَايَةِ أَصْغَرِ الثِّنْتَيْنِ ، وَلا جَلَبَ ، وَلا جَنَبَ وَلا شِغَارَ فِي الإِسْلامِ.حسن نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا: ”میں تمہیں گھوڑوں کی دوڑ کا نگران مقرر کرتا ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے اور انہوں نے سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا کہ اے سراقہ! دوڑ میں شامل ہونے والوں کی ذمہ داری میں تمہیں سونپ رہا ہوں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمہ داری مجھے عطا کی ہے، اس لیے جب تم میدان پہنچو (ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے دوڑ کا آغاز ہونا تھا) تو گھوڑوں کی قطار بنانا اور تین مرتبہ یہ اعلان کرنا: کوئی لگام کو ٹھیک کرنے والا ہے، کوئی لڑکے کو اٹھانے والا ہے، کوئی گھوڑے کے سر پر (لگام کا سرا) ڈالنے والا ہے (یعنی اگر نہیں ہے تو دوڑ شروع کی جائے)۔ اگر تمہیں کوئی جواب نہ دے تو تم تین مرتبہ اللہ اکبر کا نعرہ لگانا اور اسے چھوڑ دینا، تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کے بارے میں چاہے گا جیت کے لیے اس کی مدد کرے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دوڑ کے آخری نشان کے پاس تشریف فرما ہو جاتے۔ آپ ایک لکیر لگوا دیتے اور اس لکیر کے دونوں کناروں پر دو آدمیوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیتے۔ اس لکیر کا کنارہ ان آدمیوں کے پاؤں کے انگوٹھوں کے درمیان ہوتا اور گھوڑا ان دونوں کے درمیان میں سے گزرتا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان دونوں آدمیوں سے فرماتے تھے: جب دو گھوڑوں میں سے کوئی ایک گھوڑا دوسرے کے مقابلے میں کانوں کے کنارے جتنا یا کان جتنا یا گال جتنا آگے ہو تو تم اسے کامیاب قرار دینا اور اگر تمہیں اس بارے میں شک ہو تو تم دونوں کو کامیاب قرار دینا اور جب تم دو کو برابر قرار دو تو آخری حد سے بنانا جو دونوں میں سے چھوٹی ہو۔ اسلام میں جلب، جنب اور شغار کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔