حدیث نمبر: 4832
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الرَّاسِبِيُّ ، نَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، نَا كَثِيرٌ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا جَلَبَ ، وَلا جَنَبَ وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " ، قَالَ ابْنُ الْفُضَيْلِ : فَسَّرَ لَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : الْجَلَبُ يُجْلَبُ حَوْلَ الْفَرَسِ مِنْ خَلْفِهِ فِي الْمَيْدَانِ لِيُحْرِزَ السَّبْقَةَ ، وَالْجَنَبُ : أَنْ يَكُونَ الْفَرَسُ بِهِ اعْتِرَاضُ جَنُوبٍ فَيَعْتَرِضُ لَهُ الرَّجُلُ بِفَرَسِهِ يُقَوِّمُهُ فَيُحْرِزُ الْغِيَّةَ.
محمد محی الدین

بسر مزنی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جلب اور جنب کی کوئی حقیقت نہیں ہے، کوئی شخص کسی دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے۔“ ابن ابواویس نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ جلب سے مراد یہ ہے کہ آدمی گھوڑے سے آگے نکلنے کے لیے پیچھے سے اسے کھینچے اور جنب سے مراد یہ ہے کہ دوسرے گھوڑے کے سامنے رکاوٹ پیدا کرے تاکہ وہ جیت نہ جائے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب السبق بين الخيل وما روي فيه عن النبى صلى الله عليه وسلم وهو زيادة فى الكتاب / حدیث: 4832
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3075، 4832، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3398، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 1896، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 15»