حدیث نمبر: 483
حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، قَالا : نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ لا تَحِلُّ لَهُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يُصِيبُهُ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ إِلا قَدْ أَصَابَهُ مِنْهَا إِلا أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا ؟ فَقَالَ : " تَوَضَّأْ وُضُوءًا حَسَنًا ثُمَّ قُمْ فَصَلِّ " ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الآيَةَ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ سورة هود آية 114 ، فَقَالُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : أَهِيَ لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً ؟ فَقَالَ : " بَلْ هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ جو کسی ایسی عورت کے قریب جاتا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں اور جو مرد عورتوں کے ساتھ کرتے ہیں، وہ ہر کام اس کے ساتھ کر لیتا ہے، البتہ اس کے ساتھ صحبت نہیں کرتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اچھی طرح وضو کرو، پھر اٹھ کر نماز ادا کر لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”تم نماز کو دن کے دونوں حصوں میں قائم کرو اور رات کے کچھ حصے میں بھی۔“ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا یہ حکم اس شخص کے لیے مخصوص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔“ یہ روایت مستند ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 483
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 471، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7287، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3113، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 615، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 483، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22539، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 110، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 277، 278»