سنن الدارقطني
كتاب السبق بين الخيل وما روي فيه عن النبى صلى الله عليه وسلم وهو زيادة فى الكتاب— گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
السَّبْقِ بَيْنَ الْخَيْلِ باب: گھوڑوں کے درمیان دوڑکامقابلہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا الزُّبَيْرُ بْنُ حُرَيْثٍ ، نَا أَبُو لَبِيدٍ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ ، قَالَ : أُرْسِلَتِ الْخَيْلُ مِنَ الْحَجَّاجِ وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ عَلَى الْبَصْرَةِ فَأَتَيْنَا الرِّهَانَ ، فَلَمَّا جَاءَتِ الْخَيْلُ ، قُلْنَا لَوْ مِلْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ أَكَانُوا يُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : فَمِلْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ فِي قَصْرِهِ بِالزَّاوِيَةِ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، " أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاهِنُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَاهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ : سَبِخَةٌ ، فَجَاءَتْ سَابِقَةً فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ " ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، فَذَكَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ.ابولبید المازنی بن زبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حاجیوں کے گھوڑوں کے درمیان مقابلہ کروایا، حاکم بن ایوب ان دنوں بصرہ کے گورنر تھے، جب ہم لوگ اس دوڑ کے میدان میں پہنچے اور گھوڑے وہاں آ گئے تو ہم نے سوچا کہ اگر ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے اس بارے میں دریافت کر لیں کہ کیا وہ لوگ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسی طرح دوڑ لگوایا کرتے تھے، تو یہ مناسب ہوتا۔ تو ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اپنے محل میں موجود تھے، ہم نے کہا: اے سیدنا انس! کیا آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گھوڑوں کا مقابلہ کروایا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھوڑے کو مقابلے میں شامل کیا تھا، جس کا نام سنجہ تھا تو وہ سب سے آگے نکل گیا تھا۔ اس بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے تھے اور آپ کو یہ بات بہت پسند آئی تھی۔