سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ الْأَكْلِ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ باب: : مشرکوں کے برتن میں کھانے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلانِيُّ ، بِوَاسِطَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ حَمَّادٍ الْوَاسِطِيُّ ، أنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَصْرِيِّ ، عَنْ نَهْشَلٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، وَمَكْحُولٌ الشَّامِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ ، وَطَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ ، فَاجْتَمَعُوا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ ، وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فِي الْقَدَرِ ، فَقَالَ طَاوُسٌ وَكَانَ فِيهِمْ مَرْضِيًّا : أَنْصِتُوا حَتَّى أُخْبِرَكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلا تُضَيِّعُوهَا ، وَحَّدَ لَكُمْ حُدُودًا فَلا تَعْتَدُوهَا ، وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلا تَنْتَهِكُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلا تَكَلَّفُوهَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ فَاقْبَلُوهَا ، نَقُولُ مَا قَالَ رَبُّنَا وَنَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأُمُورُ بِيَدِ اللَّهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا ، وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا ، لَيْسَ إِلَى الْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلا مَشِيئَةٌ " ، فَقَامُوا وَهُمْ رَاضُونَ بِقَوْلِ طَاوُسٍ.ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں: میں حسن بن ابوالحسن، مکحول، عمرو بن دینار اور طاؤس مسجد خیف میں اکٹھے ہوئے، یہ لوگ بلند آواز میں بحث کرنے لگے، یہ لوگ تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے، اس پر طاؤس بولے جو سب کے نزدیک پسندیدہ شخصیت تھے: تم خاموش ہو جاؤ! میں تمہیں وہ حدیث سناتا ہوں جو میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی زبانی سنی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں تم پر لازم قرار دی ہیں تو تم انہیں ضائع نہ کرو اور اس نے تمہارے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرو، اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے روک دیا ہے، تم ان کا ارتکاب کرنے کی کوشش نہ کرو اور کچھ معاملات ایسے ہیں، جن کے بارے میں اس نے بتایا نہیں وہ انہیں بھولا نہیں ہے، تم خود کو اس کا پابند نہ کرو، کیونکہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے، اسے قبول کر لو!۔“ (اس کے بعد طاؤس نے یہ کہا:) ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے پروردگار اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمام کام اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں، وہی ہر چیز کا حکم دیتا ہے، وہی ہر چیز کا اجر بھی دے گا، بندے کے بس میں کوئی بھی بات نہیں ہے، اس بارے میں بندے کی کوئی مرضی نہیں چلتی ہے۔ اس پر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے طاؤس کے قول کو پسند کیا (یعنی اس کو اختیار کیا)۔