سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ الْأَكْلِ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ باب: : مشرکوں کے برتن میں کھانے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نَا هَاشِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْجَشَّاشُ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الصَّلْتِ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدَهُ فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَوَجَدَ عِنْدَهُمْ رَجُلا مَجْنُونًا فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَبَرَأَ فَأُعْطِيَ مِائَةَ شَاةٍ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : " هَلْ قُلْتَ إِلا هَذَا ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : خُذْهَا فَلَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ ، فَلَقَدْ أَكَلْتَهُ بِرُقْيَةِ حَقٍّ " .خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس جا رہے تھے، تو ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا، انہوں نے ان لوگوں کے پاس ایک دیوانے شخص کو دیکھا، انہوں نے اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کر دیا، وہ شخص ٹھیک ہو گیا، انہیں ایک سو بکریاں دی گئیں۔ وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے یہی سورة (فاتحہ) پڑھی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے وصول کر لو، میری زندگی کی قسم! جو شخص کوئی باطل دم کر کے کچھ کھائے گا (وہ غلط ہو گا) تم نے تو اسے حق دم کر کے کھایا ہے۔“