سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ لُؤْلُؤٌ ، نا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ بَلَلا وَلا يَذْكُرُ احْتِلامًا ، قَالَ : " يَغْتَسِلُ " ، وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنْ قَدِ احْتَلَمَ وَلا يَجِدُ بَلَلا ، قَالَ : " لا غُسْلَ عَلَيْهِ " ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : أَعْلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ إِنَّ الرِّجَالَ شَقَائِقُ النِّسَاءِ " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو تری دیکھتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ غسل کر لے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جسے یہ یاد ہوتا ہے، اسے احتلام ہوا تھا لیکن اسے تری نظر نہیں آتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس پر غسل لازم نہیں ہو گا۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”اگر عورت یہ چیز دیکھ لے؟ تو کیا اس پر بھی یہ حکم لازم ہو گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! عورتیں مردوں کا پہلو ہیں۔“