سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ إِبَاحَةِ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ وَالْجَوَارِحِ باب: کتوں اور شکاری پرندوں کے ساتھ شکار کی اجازت کا بیان
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْعَسْكَرِيُّ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالُوا : أنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْمِي بِسَهْمِي فَأُصِيبُ فَلا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلا بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، فَقَالَ : إِذَا قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ فِيهِ أَثَرٌ ، وَلا خَدْشٌ ، إِلا رَمْيَتُكَ فَكُلْ ، وَإِنْ وَجَدْتَ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ رَمْيَتِكَ ، فَلا تَأْكُلْهُ ، أَوْ قَالَ : لا تَطْعَمْهُ ، فَإِنَّكَ لا تَدْرِي أَنْتَ فَعَلْتَهُ أَوْ غَيْرُكَ ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ فَأَدْرَكْتَهُ فَذَكِّهِ ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ شَيْئًا مِنْهُ فَكُلْهُ ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ، فَلا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا ، أَوْ قَالَ : لا تَأْكُلْهُ ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ، قَالَ عَدِيُّ : فَإِنِّي أُرْسِلُ كِلابِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ فَتَخْتَلِطُ بِكِلابِ غَيْرِي فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ ، قَالَ : لا تَأْكُلْهُ ، فَإِنَّكَ لا تَدْرِي أَكِلابُكَ قَتَلَتْهُ ، أَوْ كِلابُ غَيْرِكَ " .شعبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میں اپنا تیر چلا کر شکار کر لیتا ہوں لیکن شکار تک ایک یا دو دن کے بعد پہنچتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس شکار پر قابوپا لو اور اس پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان یا خراش نہ ہو، تو تم اسے کھا لو لیکن اگر تمہیں اپنے تیر کے علاوہ کوئی دوسرا زخم یا نشان ملتا ہے، تو تم اسے نہ کھاؤ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تم نے اسے شکار کیا ہے یا کسی دوسرے نے شکار کیا ہے۔ اسی طرح جب تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہو اور پھر وہ شکار کو پکڑ لیتا ہے اور تم شکار تک پہنچ جاتے ہو، تو تم اسے ذبح کر لو۔ اگر تم اسے ایسی حالت میں پاتے ہو کہ کتے نے شکار پکڑ لیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا تو تم اسے کھا لو لیکن اگر تم اسے ایسی حالت میں پاتے ہو کہ کتے نے اسے مار دیا اور اس میں سے کچھ کھا بھی لیا تھا تو تم شکار کو نہ کھاؤ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جانور نے وہ شکار اپنے لیے روکا ہے۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں کتے کو چھوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لے لیتا ہوں، پر میرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی مل جاتا ہے، اور وہ سب شکار کر لیتے ہیں اور اسے مار دیتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے نہ کھاؤ! کیونکہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کتے نے اسے مارا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے؟“