سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ الْمَنْعِ مِنَ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ باب: سونے اور چاندی کے برتنوں سے پینے اور ریشم پہننے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ . 25 ح وَنا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَرُّوذِيُّ ، يُعْرَفُ بِابْنِ الْهَرْشِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، نَا أَبُو فَرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : نزلت مَعَ حُذَيْفَةَ عَلَى دِهْقَانَ فَأَتَانَا بِطَعَامٍ فَطَعِمْنَا ، فَدَعَا حُذَيْفَةُ بِشَرَابٍ فَأَتَاهُ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ ، فَأَخَذَ الإِنَاءَ فَضَرَبَ بِهِ وَجْهَهُ ، فَسَاءَ بِالَّذِي صَنَعَ بِهِ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ لِمَ صَنَعْتُ هَذَا ؟ ، قُلْنَا : لا ، قَالَ : نَزَلْنَا بِهِ فِي الْعَامِ الْمَاضِي ، فَأَتَانِي بِشَرَابٍ فِيهِ فَأَخْبَرْتُهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَأَنْ نَشْرَبَ فِيهِمَا ، وَلا نَلْبَسَ الْحَرِيرَ ، وَلا الدِّيبَاجَ ، فَإِنَّهُمَا لِلْمُشْرِكِينَ فِي الدُّنْيَا ، وَهُمَا لَنَا فِي الآخِرَةِ " .امام محمد بن حسن شیبانی، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے حوالے سے عبدالرحمن بن لیلیٰ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک کسان کے پاس گیا، وہ ہمارے پاس کھانا لے کر آیا، ہم نے اسے کھا لیا، پھر سیدنا حذیفہ نے پانی منگوایا تو وہ شخص چاندی کے برتن میں ان کے پاس مشروب لے کر آیا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن پکڑا اور اس کے منہ پر مار دیا، انہیں اس کی یہ حرکت بری لگی۔ پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم گزشتہ سال بھی اس کے ہاں آئے تھے تو یہ اسی برتن میں میرے پاس مشروب لے کر آیا تھا، میں نے اسے بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم سونے یا چاندی کے برتنوں میں کچھ کھائیں یا ان میں کچھ پییں یا ہم ریشمی لباس یا دیباج کا لباس پہنیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:) ”یہ دونوں چیزیں دنیا میں مشرکین کے لیے ہیں، البتہ آخرت میں یہ ہمارے لیے ہوں گی۔“