سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي طَهَارَةِ الْأَرْضِ مِنَ الْبَوْلِ باب: : زمین کو پیشاب سے پاک کرنا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نا الْمُعَلَّى الْمَالِكِيُّ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَقَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " ، قَالَ : لا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ صَلاةٍ وَلا صِيَامٍ ، إِلا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ : فَذَهَبَ الشَّيْخُ فَأَخَذَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْهِ النَّاسُ فَأَقَامُوهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ عَسَى أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، فَصَبُّوا عَلَى بَوْلِهِ الْمَاءَ . كَذَا قَالَ يُوسُفُ : الْمُعَلَّى الْمَالِكِيُّ ، الْمُعَلَّى مَجْهُولٌ.سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بڑی عمر کا آدمی تھا، اس نے عرض کیا: ”اے محمد! قیامت کب آئے گی؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں نے اس کے لیے کوئی زیادہ نمازیں اور روزے تیار نہیں کیے ہیں، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت رکھتے ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ بڑی عمر کا آدمی گیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کرنا چاہا، کچھ لوگ اس کے پاس سے گزرے اور اسے روک دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کرنے دو! ہو سکتا ہے، یہ جنتی ہو۔“ پھر ان لوگوں نے اس کے پیشاب پر پانی بہا دیا۔