سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ ذَبْحِ الشَّاةِ الْمَغْصُوبَةِ باب: : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمِقْدَامَ ، يَقُولُ : أَقَمْتُ أَنَا وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلا مِنْ قَوْمِي يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً لَمْ نَذُقْ طَعَامًا ، وَقَدْ رَبَطُوا بُرْذُونَةً لِيَذْبَحُوهَا ، فَأَتَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَأَعْلَمْتُهُ الَّذِي كَانَ مِنَّا فِي أَمْرِ الْبِرْذُونَةِ ، فَقَالَ : " لَوْ ذَبَحُوهَا لَسُؤْتُكَ ، ثُمَّ قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ أَمْوَالَ الْمُعَاهَدِينَ ، وَحُمُرَ الإِنْسِ ، وَخَيْلَهَا وَبِغَالَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِمُدَّيْنِ أَوْ مُدٍّ مِنْ طَعَامٍ " ، الشَّكُّ مِنْ يَحْيَى ، وَقَالَ : إِذَا أَتَتْنَا سَرِيَّةٌ فَاطَّلَعْنَا ، لَمْ يَذْكُرْ أَبَاهُ.یحییٰ بن مقدام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دادا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ایک مرتبہ میں اور میرے قبیلے کے دس یا شاید اس سے کچھ زیادہ افراد، دو یا تین دن تک کھانا نہیں کھا سکے تھے، انہوں نے ذبح کرنے کے لیے گھوڑا باندھا ہوا تھا، میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ گھوڑے کے بارے میں ہمارا کیا ارادہ ہے، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ لوگ اسے ذبح کر دیتے تو برا کرتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ذمیوں کے اموال، گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا۔ پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اناج کے دو یا شاید ایک مد دینے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ جب ہمیں کوئی مہم درپیش ہوئی، تو ہم اطلاع کر دیں گے۔