سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ ذَبْحِ الشَّاةِ الْمَغْصُوبَةِ باب: : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا بَقِيَّةُ ، نَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ ، يُوشِكُ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ ، يَقُولُ : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْكِتَابُ فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلالٍ أَحْلَلْنَاهُ ، وَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ ، لا يَحِلُّ أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَلا الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ ، وَلا اللُّقَطَةِ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ ، فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُغْصِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ ".سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کتاب بھی عطا کی گئی اور وہ چیز بھی عطا کی گئی ہے جو اس کی مانند ہے (یعنی سنت عطا کی گئی ہے)۔ عنقریب وہ وقت آئے گا جب کوئی بھرے ہوئے پیٹ والا شخص اپنے بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے، اس میں جو چیز حلال ہو گی ہم اسے حلال سمجھیں گے اور جو چیز اس میں حرام ہو گی ہم اسے حرام قرار دیں گے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ایسا نہیں ہے، کسی بھی نوکیلے دانت والے درندے کو کھانا یا پالتو گدھے کو کھانا، معاہد شخص کی گری ہوئی چیز کو اٹھانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر وہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی ضرورت نہ ہو، تو حکم مختلف ہو گا۔ جو شخص کسی قوم کا مہمان بنا ہو اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہیں کرتے تو اسے اس بات کا حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق ان سے خوراک زبردستی حاصل کرے۔“