سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ ذَبْحِ الشَّاةِ الْمَغْصُوبَةِ باب: : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
نَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِي ، نَا بُنْدَار نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي ٍّ نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِر ٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِب قَالَ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَشْيَاءَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ الرَّجُلُ يَتَّكِئُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي ، فَيَقُولُ : بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلالا اسْتَحْلَلْنَاهُ ، وَمَا كَانَ فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللَّهُ " .سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب وہ وقت آئے گا جب کوئی شخص اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے گا اور میری حدیث بیان کرے گا اور کہے گا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کا حکم کافی ہے، ہمیں اس میں جو چیز حلال ملے گی ہم اسے حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام ملے گی ہم اسے حرام قرار دیں گے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اللہ کا رسول جس چیز کو حرام قرار دے وہ اسی طرح ہے جیسے وہ چیز ہوتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو۔“