سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ ذَبْحِ الشَّاةِ الْمَغْصُوبَةِ باب: : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 4765
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، نَا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلامٌ ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ . وَقَالَ فِيهِ : قَالَتْ : فَبَعَثْتُ إِلَى أَخِي عَامِرِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَقَدِ اشْتَرَى شَاةً مِنَ الْبَقِيعِ ، فَلَمْ يَكُنْ أَخِي ، ثَمَّ فَدَفَعَ أَهْلُهُ الشَّاةَ إِلَيَّ.محمد محی الدین
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے: میں جب کم سن بچہ تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: اس خاتون نے کہا: میں نے اپنے بھائی عامر بن ابووقاص کی طرف پیغام بھیجا کیونکہ بقیع میں سے ایک بکری خریدی ہوئی تھی، لیکن میرا بھائی وہاں موجود نہیں تھا تو اس کی بیوی نے یہ بکری مجھے بھجوا دی۔