سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ ذَبْحِ الشَّاةِ الْمَغْصُوبَةِ باب: : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ، قَالَ : " صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ ، قَالَ : فَذَهَبَ بِي أَبِي مَعَهُ ، قَالَ : فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ ، قَالَ : فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَكَلَ ، فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَتَهُ رَمَى بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبَتِهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخِي ، وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ ، وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَبِّرْ عَلَيَّ ، وَعَلَيَّ أَنْ أَرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلأُسَارَى " ، .عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے مزینہ قبیلے کے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، آپ کو اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی۔ میرے والد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مجھے بھی ساتھ لے کر چلے گئے۔ ہم لوگ اپنے والد کے سامنے اسی طرح بیٹھ گئے جیسے بچے اپنے والد کے سامنے بیٹھتے ہیں۔ لوگوں نے اس وقت تک کھانا نہیں شروع کیا جب تک انہوں نے یہ نہیں دیکھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا شروع کر چکے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ لیا تو پھر آپ نے اس کو پرے رکھ دیا اور فرمایا: ”مجھے اس بکری کے گوشت میں ایسی ذائقہ محسوس ہوا ہے جیسے یہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔“ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کی ہے اور میرا بھائی مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، اگر اس سے زیادہ بہتر بکری موجود ہوتی تو اسے بھی ذبح کرنا ہمارے لیے دشوار نہ ہوتا۔ اب مجھ پر یہ بات لازم ہے کہ میں اس سے بہتر بکری اسے دے کر اسے راضی کر لوں گی۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور آپ کے حکم کے تحت وہ کھانا قیدیوں کو کھلا دیا گیا۔