سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
بَابُ الضَّحَايَا باب: قربانی کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 4754
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ الْوَاسِطِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سَلامٍ الْعَطَّارُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ الْخُزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بُدَيْلَ بْنَ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيَّ عَلَى جَمَلٍ أَوْرَقَ يَصِيحُ فِي فِجَاجِ مِنًى : أَلا إِنَّ الذَّكَاةَ فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ ، أَلا وَلا تَعْجَلُوا الأَنْفُسَ أَنْ تَزْهَقَ ، وَأَيَّامَ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ کو اونٹ پر بٹھا کر بھیجا تاکہ وہ منیٰ کے راستوں میں یہ اعلان کر دیں کہ حلق اور لبہ میں ذبح کیا جائے گا اور جان نکالنے میں جلدی نہ کرو اور منیٰ کے دن کھانے پینے اور بیویوں کے ساتھ گزارنے کے دن ہیں۔