حدیث نمبر: 4749
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلالٍ الصَّدَفِيِّ ، حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِيَوْمِ الأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ إِلا مَنِيحَةَ أَبِي ، أَوْ شَاةَ أَبِي أَذْبَحُهَا ؟ ، قَالَ : لا وَلَكِنْ قَلِّمْ أَظْفَارَكَ ، وَقُصَّ شَارِبَكَ ، وَاحْلِقْ عَانَتَكَ ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کا دن عید ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے مقرر کیا ہے۔“ اس شخص نے عرض کی: اگر میرے پاس صرف وہی جانور ہو، جو میرے والد نے مجھے عطیہ کے طور پر دیا ہو، یا میرے والد کی یا میری بیوی کی بکری ہو، جو ان لوگوں نے عطیہ کے طور پر کوئی جانور دیا ہو تو کیا میں اسے ذبح کر سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! البتہ تم اپنے ناخن تراش لینا، مونچھیں چھوٹی کر لینا، ناف کے نیچے کے بال صاف کر لینا، تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہاری قربانی مکمل ہو جائے گی۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك / حدیث: 4749
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 773، 5914، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3986، 7624، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4379، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4439،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1399، 2789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4749، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6686»