سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي النَّوْمِ قَاعِدًا لَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ باب: : بیٹھے ہوئے سو جانا وضو نہیں توڑتا، اس بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 474
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقَظُونَ لِلصَّلاةِ ، حَتَّى إِنِّي لأَسْمَعُ لأَحَدِهِمْ غَطِيطًا ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلا يَتَوَضَّئُونَ " . قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ : هَذَا عِنْدَنَا وَهُمْ جُلُوسٌ صَحِيحٌ.محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے، انہیں نماز پڑھنے کے لیے اٹھایا جاتا تھا، یہاں تک کہ بعض اوقات میں ان میں سے کسی کے خراٹے بھی سن لیتا تھا، لیکن وہ پھر اٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ ابن مبارک نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: ”ہمارے نزدیک یہ حکم اس وقت ہے جب یہ لوگ بیٹھے ہوئے سو جاتے تھے۔“ یہ حدیث مستند ہے۔