سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّهُ " رَكِبَ فِي الْبَحْرِ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَوَجَدُوا سَمَكَةً طَافِيَةً عَلَى الْمَاءِ فَسَأَلُوهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : أَطَيِّبَةٌ هِيَ لَمْ تُغَيَّرْ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَكُلُوهَا وَارْفَعُوا نَصِيبِي مِنْهَا وَكَانَ صَائِمًا " .سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کے ہمراہ سمندری سفر پر جا رہے تھے، انہوں نے ایک مردہ مچھلی پائی جو پانی پر تیر رہی تھی، لوگوں نے ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا یہ پاک ہے؟ اس میں کوئی تبدیلی تو نہیں آئی (یعنی بو تو نہیں آنے لگی)؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! (پاک ہے) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اسے کھا لو، اور اس میں سے میرا حصہ بھی اٹھا لو (یعنی سنبھال کر رکھ لو) اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔