سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الْحُكْمِ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ وَالصَّبِيَّةِ مَا لَمْ يَأْكُلَا الطَّعَامَ باب: : جو بچہ یا بچی کھانا نہیں کھاتے ہوں ، ان کے پیشاب کا حکم
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، قَالا : نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ : " وَلِّنِي قَفَاكَ " ، فَأُوَلِّيهِ قَفَائِي ، وَأَنْشُرُ الثَّوْبَ ، يَعْنِي أَسْتُرُهُ ، فَأُتِيَ بِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " هَكَذَا يُصْنَعُ يُرَشُّ مِنَ الذَّكَرِ وَيُغْسَلُ مِنَ الأُنْثَى " .سیدنا ابوسمح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ نے غسل کرنا ہوتا تو آپ مجھ سے فرماتے: ”منہ دوسری طرف کر لو۔“ تو میں منہ دوسری طرف کر لیتا اور پردہ کر دیتا۔ (ایک مرتبہ آپ نے غسل کر لیا تھا) تو آپ کے پاس جناب امام حسن رضی اللہ عنہ یا شاید امام حسین رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، انہوں نے آپ کے سینے پر پیشاب کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا، اور ارشاد فرمایا: ”اگر لڑکا پیشاب کر دے، تو اس طرح چھڑک دیا جائے گا اور اگر لڑکی پیشاب کرے تو اسے دھویا جائے گا۔“