سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 4709
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " آكُلُ مَا طَفَا عَلَى الْمَاءِ ؟ قَالَ : إِنَّ طَافِيَهُ مَيْتَةٌ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مَاءَهُ طَهُورٌ ، وَمِيتَهُ حِلٌّ " .محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوہریرہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا میں اس مچھلی کو کھاؤں جو (مرنے کے بعد) پانی پر تیرنے لگتی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پانی میں تیرنے والی مچھلی تو مردار ہوتی ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس کا (سمندر کا) پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“