سنن الدارقطني
الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نَا عَمِّي ، نَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ نَافِعًا ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " غَزَوْنَا فَجُعْنَا حَتَّى إِنَّا نَقْسِمُ التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ إِذْ رَمَى الْبَحْرُ بِحُوتٍ مَيِّتَةٍ ، فَأَقْطَعَ النَّاسُ مِنْهُ مَا شَاءُوا مِنْ شَحْمٍ وَلَحْمٍ ، وَهُوَ مثل الضَّرْبِ ، فَبَلَغَنِي أَنَّ النَّاسَ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَمَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَأَعْطُوهُ مِنْهُ فَأَكَلَهُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم جنگ میں شریک تھے، ہمیں بھوک محسوس ہوئی، یہاں تک کہ ہم نے ایک اور دو کھجوریں تقسیم کی، پھر ہم سمندر کے کنارے پہنچ گئے، سمندر نے ایک بڑی مردار مچھلی کو باہر پھینک دیا، لوگوں نے اپنی اپنی پسند کے حصے کے گوشت اور چربی کو لیا، وہ ایک مثال تھی (راوی کہتے ہیں): مجھے یہ پتا چلا ہے کہ جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کے بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے؟“ نافع بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا۔