سنن الدارقطني
كتاب الأشربة وغيرها— مشروبات کا بیان
بَابُ الْمَنْعِ مِنْ تَخْلِيلِ الْخَمْرِ باب: :شراب کو خمیر کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، نَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ ؟ ، قُلْنَا : مَاتَتْ ، قَالَ : أَفَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ ، قُلْنَا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : يَحِلُّ دِبَاغُهَا كَمَا يَحِلُّ خَلُّ الْخَمْرِ " ، تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، يَرْوِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ أَحَادِيثَ عِدَّةً لا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہماری ایک بکری تھی وہ مر گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہاری بکری کو کیا ہوا؟“ ہم نے بتایا کہ وہ مر گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کے ذریعے فائدہ کیوں نہیں حاصل کرتے؟“ ہم نے عرض کی: وہ تو مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دباغت اسے حلال کر دیتی ہے، جس طرح شراب سے بنایا ہوا سرکہ حلال ہوتا ہے۔“