سنن الدارقطني
كتاب الأشربة وغيرها— مشروبات کا بیان
كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرُهُ باب: مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ ، نَا الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَطَّبَ ثُمَّ رَدَّهُ ، فَتَبِعَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَحَرَامٌ هُوَ ؟ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَا بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، فَصَبَّهُ فِيهِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمُ الأَنْبِذَةُ فَأَكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ " ، لا يَصِحُّ هَذَا عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، وَلَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ الْيَسَعِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ بِيَحْيَى بْنِ يَمَانٍ ، وَيُقَالُ : إِنَّهُ انْقَلَبَ عَلَيْهِ الإِسْنَادُ ، وَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ بِحَدِيثِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا، جس میں نبیذ موجود تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور ناراضگی کا اظہار کر کے اسے واپس کر دیا، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کو پکڑا، پھر آپ نے آپ زم زم کا ایک ڈول منگوایا اور اس میں وہ پانی ملا دیا، پھر اس مشروب کو پی لیا، پھر آپ نے فرمایا: ”جب تمہاری نبیذ تیز ہو جائے تو اس کی تیزی کو پانی کے ذریعے ختم کر دو۔“