سنن الدارقطني
كتاب الأشربة وغيرها— مشروبات کا بیان
كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرُهُ باب: مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 4695
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ الْمِصِّيصِيُّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ . ح وَنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ ، جَمِيعًا بِالْبَصْرَةِ ، قَالا : نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالُوا : نَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فَاسْتَسْقَى ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ فَشَمَّهُ ثُمَّ قَطَّبَ ، فَقَالَ : عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : لا " ، لَفْظُ أَبِي حَامِدٍ ، وَالشَّهِيدِيُّ ، وَقَالَ لَنَا الْمَحَامِلِيُّ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُتِمَّهُ.محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے پاس پیاس محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لیے کچھ مانگا تو آپ کی خدمت میں مشکیزے میں سے نبیذ لائی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سونگھا، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے پاس زم زم کا ایک ڈول لے کے آؤ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی اس میں ملا دیا، پھر اسے پی لیا، ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں!“۔