سنن الدارقطني
كتاب الأشربة وغيرها— مشروبات کا بیان
كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرُهُ باب: مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى الْبَزَّازُ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَاسْتَسْقَى رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَرَابٌ فَيُرْسِلُ إِلَيَّ ؟ ، فَأَرْسَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ نَبِيذُ زَبِيبٍ ، فَلَمَّا رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا خَمَّرْتِهِ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَدْنَى الإِنَاءَ مِنْهُ وَجَدَ لَهُ رَائِحَةً شَدِيدَةً ، فَقَطَّبَ وَرَدَّ الإِنَاءَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ يَكُنْ حَرَامًا لَمْ تَشْرَبْهُ فَاسْتَعَادَ الإِنَاءَ وَصَنَعَ مثل ذَلِكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ مثل ذَلِكَ ، فَدَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ عَلَى الإِنَاءِ ، وَقَالَ : إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ شَرَابَكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا " ، الْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ ، وَأَبُو صَالِحٍ ، ضَعِيفٌ ، وَاسْمُهُ بَاذَانُ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ.سیدنا مطلب بن ابووداعہ سہمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سخت گرمی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، آپ نے قریش کے کچھ لوگوں سے پینے کے لیے پانی مانگا، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی مشروب ہے، اگر ہے، تو وہ میرے گھر بھجوا دیں؟“ تو ان میں سے ایک شخص نے آپ کے گھر اسے بھجوا دیا، ایک کنیز آئی، اس کے پاس برتن تھا، جس میں کشمش کی بنی ہوئی نبیذ موجود تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو دریافت کیا: ”تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں! خواہ کسی لکڑی کے ذریعے ہی اس کو ڈھانپ دیتی۔“ جب اس نے اس برتن کو آپ کے قریب کیا تو آپ کو اس میں سے تیز بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر یہ حرام ہے، تو آپ اسے نہ پییں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کو دوبارہ منگوایا اور اس کے ساتھ یہی طرز عمل اختیار کیا، اس شخص نے پھر یہی عرض کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ زم زم کا ایک ڈول منگوایا اور اس برتن میں ڈال دی اور ارشاد فرمایا: ”جب تمہارا مشروب تیز ہو جائے تو تم اس کے ساتھ یہ کر لو۔“