سنن الدارقطني
كتاب الأشربة وغيرها— مشروبات کا بیان
كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرُهُ باب: مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ ، قَالَ : حَمَلْتُ سِلالا مِنْ خَبِيصٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتْحَ بَعْضَهُنَّ ، فَقَالَ : " يَا عُتْبَةُ ، كُلُّ الْمُسْلِمِينَ يَجِدُ مثل هَذَا ؟ ، قُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا شَيْءٌ يَخْتَصُّ بِهِ الأُمَرَاءُ ، قَالَ : ارْفَعْهُ لا حَاجَةَ لِي فِيهِ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ دَعَا بِغَدَائِهِ فَأُتِيَ بِلَحْمٍ غَلِيظٍ وَبِخُبْزٍ خَشِنٍ ، فَجَعَلْتُ أَهْوَى إِلَى الْبَضْعَةِ أَحْسَبُهَا سَنَامًا ، فَإِذَا هِيَ عِلْبَاءُ الْعَنَقِ ، فَأَلُوكُهَا فَإِذَا غَفَلَ عَنِّي جَعَلْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ الْخِوَانِ ، ثُمَّ دَعَا بِنَبِيذٍ لَهُ قَدْ كَادَ أَنْ يَصِيرَ خَلا فَمَزَجَهُ حَتَّى إِذَا أَمْكَنَ شَرِبَ وَسَقَانِي ، ثُمَّ قَالَ : يَا عُتْبَةُ ، إِنَّا نَنْحَرُ كُلَّ يَوْمٍ جَزُورًا ، فَأَمَّا وَرِكُهَا وَأَطَايِبُهَا فَلِمَنْ حَضَرْنَا مِنْ أَهْلِ الآفَاقِ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَّا عُنُقُهَا فَلَنَا نَأْكُلُ هَذَا اللَّحْمَ الْغَلِيظَ الَّذِي رَأَيْتَ ، وَنَشْرَبُ عَلَيْهِ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ يَقْطَعُهُ فِي بُطُونِنَا " .عتبہ بن فرقد بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مٹھائی کے تھال لے کر آیا، وہ میں نے ان کے سامنے رکھے، انہوں نے ان میں سے کسی ایک کو کھول کر دیکھا تو دریافت کیا: اے عتبہ! تمام مسلمانوں کو یہ چیز نصیب ہو جاتی ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! یہ چیز صرف امیر لوگوں کو ملتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اسے اٹھا لو، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اسی دوران میری موجودگی میں انہوں نے کھانا منگوا لیا تو ان کے لیے موٹا گوشت اور سخت روٹی لائے گئے۔ میں نے اس گوشت کو کھانے کا ارادہ کیا، میں اسے کوہان کا گوشت سمجھا تھا لیکن وہ گردن کا گوشت تھا، پس اسے منہ میں چباتا رہا، جب وہ میری طرف سے غافل ہوئے تو میں نے اس گوشت کو اپنے اور دستر خوان کے درمیان میں رکھ دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبیذ منگوائی جو سرکہ بننے والی تھی، انہوں نے اس میں تھوڑا سا پانی ملایا، پھر اسے تھوڑی دیر ویسے ہی رہنے دیا، پھر وہ مجھے بھی پلایا اور خود بھی پیا، پھر بولے: اے عتبہ! ہم روزانہ اونٹ کا گوشت پکاتے ہیں اور اس کا سرین کا اچھا گوشت مہمان کو یا عام مسلمانوں کو کھلا دیتے ہیں اور گردن کا وہ گوشت جو گلتا نہیں ہے اسے خود کھاتے ہیں، جو تم نے ابھی دیکھا بھی ہے، اس کے بعد یہ نبیذ پی لیتے ہیں تاکہ ہمارے پیٹ میں وہ گوشت ہضم ہو جائے۔