سنن الدارقطني
كتاب الأشربة وغيرها— مشروبات کا بیان
كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرُهُ باب: مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ أَبُو كَامِلٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " بَيْنَا نَحْنُ نُزُولٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْطَحِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : أَلا إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا تُذَكِّرْكُمْ آخِرَتَكُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلاثٍ ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَوْعِيَةِ وَإِنَّ الأَوْعِيَةَ لا تُحَرِّمُ شَيْئًا ، فَاشْرَبُوا وَلا تَسْكَرُوا " ، فَرْقَدٌ ، وَجَابِرٌ ، ضَعِيفَانِ ، وَلا يَصِحُّ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحا میں پڑاؤ کیا (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں): ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں تمہاری آخرت کی یاد دلائیں گی، میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا تو اب تم اسے کھا بھی لیا کرو اور ذخیرہ بھی کیا کرو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں سے منع کیا تھا تو برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے ہیں، تم ان میں پی لیا کرو لیکن نشے والی چیز نہ پینا۔“