سنن الدارقطني
كتاب الأشربة وغيرها— مشروبات کا بیان
كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرُهُ باب: مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 4675
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلا يَسْأَلْهُ ، وَإِنْ سَقَاهُ شُرْبًا فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلا يَسْأَلْهُ عَنْهُ ، وَإِنَّ خَشِيَ مِنْهُ فَلْيَكْسِرْهُ بِالْمَاءِ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو وہ اسے کھلائے، تو آدمی کو چاہیے کہ وہ کھانا کھائے اور اس سے کوئی فرمائش نہ کرے، اگر وہ اسے کوئی مشروب پلائے تو وہ اس مشروب کو پی لے اور اس سے مزید کوئی فرمائش نہ کرے اور اگر اسے اس مشروب کے بارے میں اندیشہ ہو، تو اس میں پانی ڈال کر اس کا روزہ توڑ دے۔“