سنن الدارقطني
كتاب الأشربة وغيرها— مشروبات کا بیان
كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرُهُ باب: مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمَّادٍ الْقَاضِي ، نَا سَعِيدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ أَبُو عُثْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَزَعَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " انْتَبَذَتْ نَبِيذًا فِي دُبَّاءٍ تُحْفَةً أَتْحِفُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ فِطْرِهِ جِئْتُهُ بِهَا أَحْمِلُهَا ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ ، قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ نَبِيذٌ انْتَبَذْتُهُ لَكَ عَرَفْتُ أَنَّكَ تَصُومُ يَوْمَكَ هَذَا فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُصِيبَ مِنْهُ ، فَقَالَ : ادْنُهَا مِنِّي ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ يَنَسَ ، قَالَ : اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ ، فَإِنَّمَا يَشْرَبُ هَذَا ، مَنْ لا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے (شراب بنانے کے مخصوص برتن) دباء میں نیند تیار کی، تاکہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر اس دن پیش کروں، جب آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ جب افطاری کا وقت ہوا تو میں اسے اٹھا کر آپ کی خدمت میں لایا۔ آپ نے دریافت کیا: اے ابوہریرہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ نبیذ ہے، جو میں نے آپ کے لیے تیار کی۔ مجھے پتا تھا آپ آج روزہ رکھیں گے تو میری یہ خواہش ہے کہ آپ اسے استعمال کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے قریب کرو۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جائزہ لیا تو اس میں جوش آ چکا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اس دیوار پر مار دو، کیونکہ اسے وہ پیے گا جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو۔“