حدیث نمبر: 4609
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُحْرِمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّمُرِيُّ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ ، وَمَصْقَلَةَ بْنَ هُبَيْرَةَ الشَّيْبَانِيَّ ، تَنَازَعَا بِالْكُوفَةِ فَفَخَرَ الْمُغِيرَةُ بِمَكَانِهِ مِنْ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَصْقَلَةَ ، فَقَالَ لَهُ مَصْقَلَةُ : وَاللَّهِ لأَنَا أَعْظَمُ عَلَيْهِ حَقًّا مِنْكَ ، قَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ " وَلِمَ ؟ " ، قَالَ لَهُ مَصْقَلَةُ : لأَنِّي فَارَقْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ وَوُجُوهِ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، وَلَحِقْتُ بِمُعَاوِيَةَ فَضَرَبْتُ مَعَهُ بِسَيْفِي ، وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَى الْبَحْرَيْنِ فَأَعْتَقْتُ لَهُ بَنِي سَامَةَ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ بَعْدَ مَا مُلِكَتْ رِقَابُهُمْ وَأُبِيحَتْ حُرْمَتُهُمْ ، وَأَنْتَ مُقِيمٌ بِالطَّائِفِ تُنَاغِي نِسَاءَكَ ، وَتُرَشِّحُ أَطْفَالَكَ طَوِيلُ اللِّسَانِ قَصِيرُ الْيَدِ ، تُلْقِي بِالْمَوَدَّةِ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ حَتَّى إِذَا اسْتَقَامَتِ الأُمُورُ غَلَبْتَنَا غَلَبَةً ، فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ : " وَاللَّهِ يَا مَصْقَلَةُ مَا زِلْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تُكْثِرُ الْحَزَّ وَتُحْطِي الْمَفَاصِلَ ، أَمَّا تَرْكُكَ عَلِيًّا فَقَدْ فَعَلْتَ فَلَمْ تُؤْنِسْ أَهْلَ الشَّامِ ، وَلَمْ تُوحِشْ أَهْلَ الْعِرَاقِ ، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي عِتْقِ بَنِي سَامَةَ بْنِ لُؤَيٍّ ، فَإِنَّمَا أَعْتَقَهُمْ ثِقَةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكَ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا صَبَرْتَ لَهُمْ نَفْسَكَ وَلا أَعْتَقْتَهُمْ مِنْ مَالِكَ ، وَأَمَّا مَقَامِي بِالطَّائِفِ فَقَدْ أَبْلانِي اللَّهُ تَعَالَى فِي الْخَفْضِ مَا لَمْ يُبْلِكَ فِي الظَّعْنِ ، وَلِلَّهِ تَعَالَى عَلَيْنَا ، فَإِنْ أَنْتَ عَادَيْتَنَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ وَرَائِكَ " .
محمد محی الدین

مروان جعفر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ اور مصقلہ بن ہبیرہ کے درمیان اختلاف ہو گیا تو مغیرہ نے مصقلہ کے سامنے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے قریب ہونے کے حوالے سے فخر کا اظہار کیا۔ تو مصقلہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے زیادہ قریب ہوں۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: وہ کیوں؟ مصقلہ نے ان سے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو مہاجرین اور انصار اور عراق کے بڑے لوگوں کے درمیان چھوڑ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مل گیا تھا اور ان کے ساتھ تلوار چلاتا رہا تھا اور انہوں نے مجھے گورنر مقرر کیا تھا تو میں نے ان کے لیے بنو سامہ بن لوئی کو آزاد کیا تھا، حالانکہ میں ان کی گردنوں کا مالک بن چکا تھا اور ان کی عزتیں میرے لیے حلال ہو چکی تھیں، جبکہ تم طائف میں ٹھہرے ہوئے تھے اور اپنی بیویوں کے ساتھ خوش ہو رہے تھے اور اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، تمہاری زبان دراز تھی، تم کنجوس تھے، تمہیں رشتے داری کی پروا نہیں تھی لیکن جب معاملہ ٹھیک ہو گیا تو اس وقت تم ہم پر غالب آ گئے۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! اے مصقلہ! تم آج یہی باتیں کیے جا رہے ہو، جہاں تک تمہارا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے کا تعلق ہے، تو تم نے ایسا کیا ہے، تو تم نے یہ عمل اہل شام سے محبت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اہل عراق کے ساتھ نفرت کی وجہ سے کیا ہے۔ جہاں تک تم نے یہ کہا کہ تم نے بنو سامہ بن لوئی کو آزاد کیا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ایک قابل اعتماد ساتھی نے تم پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں آزاد کیا ہے۔ اللہ کی قسم! تم نے اپنے آپ کو ان کے ساتھ متعلق نہیں کیا اور نہ ہی انہیں اپنے مال میں سے آزاد کیا تھا۔ جہاں تک میرا طائف میں رہنے کا معاملہ ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے گھر بار کی آزمائش میں مبتلا کیا، جس میں تمہیں مبتلا نہیں کیا، جو بیویوں کے بارے میں ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے، اگر تم نے ہمارے ساتھ دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4609
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4609 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»