حدیث نمبر: 4598
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالا : نَا هُشَيْمٌ ، نَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَسْتَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، " أَنَّهُ قَضَى فِي كَلْبِ الصَّيْدِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ، وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ شَاةٌ ، وَفِي كَلْبِ الزَّرْعِ فِرْقٌ مِنْ طَعَامٍ ، وَفِي كَلْبِ الدَّارِ فِرْقٌ مِنْ تُرَابٍ ، حَقٌّ عَلَى الَّذِي قَتَلَهُ أَنْ يُعْطِيَ ، وَحَقٌّ عَلَى صَاحِبِ الْكَلْبِ أَنْ يَأْخُذَ مَعَ مَا نَقَصَ مِنَ الأَجْرِ " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے شکار کرنے والے کتے کے بارے میں چالیس درہم دینے کا فیصلہ دیا ہے۔ بکریوں کے رکھوالے کتے کے بارے میں ایک بکری کی ادائیگی، کھیت کے رکھوالے کتے کے بارے میں، اناج کے فرق (بڑے برتن) کا حکم دیا ہے، جبکہ گھر کی حفاظت والے کتے میں مٹی کے ایک بڑے برتن کا حکم دیا ہے۔ یہ اس شخص پر لازم ہو گا جو ایک کتے کو مار دیتا ہے، وہ اسے یہ ادا کرے گا۔ تاہم کتے کے مالک کے لیے یہ بات لازم ہے کہ وہ اس بدلے کو وصول کرتے ہوئے اس میں کوئی کمی کر دے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4598
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11127، 11128، 11129، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4598، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1285، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18413، 18414، 18415، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21316، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5727»
«قال النوي : فكلها ضعيفة وفيها الحديث المراد ، المنهاج في شرح صحيح مسلم بن الحجاج: (10 / 177)»