حدیث نمبر: 4595
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَبَيْنَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، دَعْوَى فِي شَيْءٍ فَحَكَّمَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَصَّ عَلَيْهِ عُمَرُ ، فَقَالَ أُبَيٌّ : " اعْفُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : لا تَعِفْنِي مِنْهَا إِنْ كَانَتْ عَلَيَّ ، قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ : فَإِنَّهَا عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : فَحَلَفَ عُمَرُ ، ثُمَّ أَتُرَانِي قَدْ أَسْتَحِقُّهَا بِيَمِينِي ، اذْهَبِ الآنَ فَهِيَ لَكَ " .
محمد محی الدین

محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا معاذ بن عفراء کے بارے میں کسی چیز کے درمیان اختلاف ہو گیا، ان دونوں حضرات نے سیدنا ابی بن کعب کو ثالث مقرر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں پورا واقعہ سنایا، سیدنا ابی بولے: تم امیر المؤمنین کو معاف کر دو، انہوں نے کہا: اگر یہ ادائیگی مجھ پر لازم ہے، تو آپ مجھے ہرگز معاف نہ کریں۔ تو سیدنا ابی بن کعب بولے: اے امیر المؤمنین! یہ ادائیگی آپ پر لازم ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی اور بولے: میرے قسم اٹھانے کی وجہ سے میں اس سے بری الذمہ ہو گیا ہوں، تم یہ چیز لے جاؤ یہ تمہاری ہوئی۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4595
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4595، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 15944»