حدیث نمبر: 4593
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ ، فَقَالَ : ابْنُ أَخِي ، وَقَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، فَقَالَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَتَسَاوَقَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ابْنُ أَخِي ، قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ : احْتَجِبِي مِنْهُ لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ ، قَالَتْ : فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ " ، .
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قتبیہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی زید بن ابی وقاص سے عہد لیا کہ زمعہ کی کنیز کا بیٹا مجھ سے ہے، تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر سیدنا سعد نے اسے حاصل کر لیا اور بولے: یہ میرا بھتیجا ہے جس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا۔ اور عبد بن زمعہ ان کے سامنے کھڑے ہوئے اور بولے: یہ میرا بھائی ہے، یہ میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے جو میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا سعد نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ میرا بھتیجا ہے جس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے، جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تمہیں ملے گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ اس کا سمجھا جائے گا جس کا فراش ہو اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اس سے پردہ کر لو۔“ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کر لی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس لڑکے نے مرتے دم تک کبھی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4593
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2053، 2218، 2421، 2533، 2745، 4303، 6749، 6765، 6817، 7182، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1457، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1349 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4105، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3486 ، 3487 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5648، 5651، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2273، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2004، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3850، 4590، 4591، 4592، 4593، 4594، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24720، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 240، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17980»