سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، وَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اخْتَصَمَ ، سَعْدٌ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ ، فَقَالَ : إِذَا دَخَلْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخِي ، ابْنُ أَمَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سعد اور عبد بن زمعہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر بحث کرنے لگے، سعد نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی عتبہ نے مجھے یہ وصیت کی تھی، اس نے کہا تھا کہ جب تم مکہ میں جاؤ گے تو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کو دیکھنا اور اسے گود میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ میرے باپ کی کنیز کا بیٹا اور میرا بھائی ہے، جو میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظہ کی تو آپ نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے۔“ اے سودہ! تم اس لڑکے سے پردہ کرو۔