سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " كَانَ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَطَؤهَا وَكَانَتْ تُظَنُّ بِرَجُلٍ آخَرَ أَنَّهُ يَقَعُ عَلَيْهَا ، فَمَاتَ زَمْعَةُ وَهِيَ حُبْلَى فَوَلَدَتْ غُلامًا يشبه الرَّجُلَ الَّذِي كَانَتْ تَظُنُّ بِهِ ، فَذَكَرَتْهُ سَوْدَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَّا الْمِيرَاثُ فَلَهُ ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ فَلَيْسَ لَكِ بِأَخٍ " .سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زمعہ کی ایک کنیز تھی جس کے ساتھ وہ صحبت کیا کرتا تھا، اس کنیز کا یہ کہنا ہے کہ ایک اور شخص نے اس کے ساتھ صحبت کی، اسی دوران زمعہ انتقال کر گیا اور وہ کنیز حاملہ ہو گئی، اس نے ایک بچے کو جنم دیا، جو اس شخص کے ساتھ مشابہت رکھتا تھا جس کے بارے میں کنیز نے بات بیان کی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک وراثت کا تعلق ہے، وہ اسے مل جائے گی لیکن جہاں تک تمہارا معاملہ ہے تو تم اس سے پردہ کرو کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔“