سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ قَائِفٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ ، فَقَالَ : هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ، قَالَتْ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَعْجَبَهُ فَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ : وَكَانَ زَيْدٌ أَحْمَرَ أَشْقَرَ أَبْيَضَ وَكَانَ أُسَامَةُ مثل اللَّيْلِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک قیافہ شناس آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں موجود تھے، سیدنا اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ دونوں لیٹے ہوئے تھے، وہ شخص بولا: یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور آپ کو یہ بات پسند آئی، آپ نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی۔ ابراہیم بن سعد نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا زید رضی اللہ عنہ سرخ و سفید رنگ کے مالک تھے جبکہ سیدنا اسامہ کا رنگ رات کی طرح (سیاہ) تھا۔