سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَقْضِي عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ نَارٍ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ : " فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا " ، وَفِي حَدِيثِ هِشَامٍ : " فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " ، وَهِشَامٌ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً ، فَإِنَّ الزُّهْرِيَّ أَحْفَظُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے پاس مقدمہ لے کر آتے ہو، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی دلیل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو، میں بھی ایک انسان ہوں، اس طرح کی صورت میں، میں جو فیصلہ کروں گا وہ اس کے مطابق ہو گا جو میں نے سنا ہے تو جس شخص کے حق میں، اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں، وہ اسے وصول نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے حاصل کر لے یا اسے ترک کر دے۔“