سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالُوا : نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ صَوْتَ خُصُومٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسَبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا " ، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، وَعَقِيلٌ ، وَشُعَيْبٌ، وَاللَّيْثُ ، الزُّهْرِيِّ.سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام سلمہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات بتائی ہے کہ آپ نے اپنے حجرے کے دروازے پر کچھ لوگوں کی جھگڑے کی آواز سنی، آپ ان کے پاس تشریف لے کر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں، میرے پاس کوئی فریق مقدمہ لے کر آتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرے فریق کے مقابلے میں زیادہ تیز گفتگو کرتا ہو، میں اسے سچ سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دے دوں، تو میں جس شخص کے حق میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ دوں گا تو یہ ایک جہنم کا ٹکڑا ہو گا، اس کی مرضی ہے کہ اسے حاصل کر لے یا اسے چھوڑ دے۔“