سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ جَالِسَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ فِي أَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ لِقَضِيَّةٍ أَرَاهَا فَقَطَعَ بِهَا قِطْعَةً ظُلْمًا فَإِنَّمَا يَقْطَعُ بِهَا قِطْعَةً مِنْ نَارٍ ، إِسْطَامًا يَأْتِي بِهَا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : فَبَكَى الرَّجُلانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : حَقِّي هَذَا الَّذِي أَطْلُبُ لِصَاحِبِي ، قَالَ : لا وَلَكِنِ اذْهَبَا فَتَوَخَّيَا ، ثُمَّ اسْتَهِمَا ، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ " ، .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں کے درمیان وراثت سے متعلق جھگڑا چل رہا تھا جو کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں تھا جو پرانی ہو چکی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ دوں گا جس بارے میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی تو جس شخص کے حق میں، میں فیصلہ دے دوں اور ظلم کے طور پر اسے وہ چیز مل جائے تو اسے جہنم کا ٹکڑا ملے گا، جسے وہ قیامت کے دن اپنی گردن میں ڈال کر لے کر آئے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں افراد رونے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا: حق جس کا میں مطالبہ کر رہا تھا، اصل میں وہ میرے ساتھی کا حق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! تم دونوں جاؤ اور اس کی جانچ پڑتال کر کے اس کے حصے کو لو پھر تم دونوں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے لیے اسے حلال قرار دے۔“