سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ هِلالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ : سَلَبَةُ ، " فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ : إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشْرِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ ذَلِكَ الْوَادِي ، وَإِلا فَهُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ " .عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ ان کی زمین کا عشر تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ اسے ایک وادی چراگاہ کے طور پر عطا کر دیں جس کا نام سلبہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ اس کو چراگاہ کے طور پر دے دی۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سفیان بن وہب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تمہیں وہی ادائیگی کریں گے جو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادائیگی کرتا تھا، یعنی اس جگہ کی پیداوار کا دسواں حصہ۔ تو ٹھیک ہے وہ چراگاہ اس کے پاس رہنے دو، جس کا نام سلبہ ہے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ اس طرح ہو گی جسے جو چاہے گا وہ کھا لے گا۔